Posts

Showing posts from February, 2021

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے تاریخی معاہدے پر امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں دستخط کر دیے

  متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے تاریخی معاہدے پر امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں دستخط کر دیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں تقریب کی میزبانی کی جہاں گزشتہ ایک ماہ کے کم عرصے کے دوران متحدہ عرب امارات اور بحرین دونوں نے ہی اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ تقریب میں ٹرمپ کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف الزیانی بھی موجود تھے۔ متحدہ عرب امرات اور بحرین اسرائیل کو تسلیم کرنے والے بالترتیب تیسرے اور چوتھے عرب ملک بن گئے ہیں جہاں اس سے قبل 1979 میں مصر اور 1994 میں اردن نے اسرائیل سے تعلقات بحال کر لیے تھے۔ تقریب سے قبل نیتن یاہو سے اوول آفس میں ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ بہت جلد مزید پانچ سے چھ ملک ہمارے ساتھ مل جائیں گے تاہم انہوں نے ان ملکوں کے نام واضح نہیں کیے۔ وائٹ ہاوس کی بالکونی سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہم یہاں تاریخ کا دھارا بدلنے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور اسے اہم تبدیلی قرار دیا جس میں اب تما...

جو بائیڈن کے دور میں امریکہ کے تعلقات کیسے ہوں گے؟؟؟

  بائیڈن کے دور میں امریکہ اور بھارت کے تعلقات کیسے ہوں گے: دنیا بھر کی طرح  بھارت میں بھی امریکی صدارتی انتخابات کی بھرپور کوریج کی گئی۔ یہ خبر بیشتر اخبارات اور ٹی وی چینلز کی شہ سرخی رہی جب کہ اب نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے بھارت کے ساتھ تعلقات کے امکانات پر بحث اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی پائی جاتی تھی اور یہی وجہ ہے کہ رواں برس صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کا دورہ بھی کیا۔ بھارت میں اب یہ بحث جاری ہے کہ کیا بائیڈن انتظامیہ ان رشتوں کو مزید مضبوط کرے گی یا نئے سرے سے تعلقات کا جائزہ لے گی۔ بھارت کے انگریزی اخبار 'دی ٹائمز آف انڈیا' نے 'تبدیلی کی ہوا' کے عنوان سے اپنے اداریے میں جو بائیڈن کی وکٹری اسپیچ کی تعریف کرتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ اور بھارت کے متوقع تعلقات کا جائزہ لیا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن نے 2008 میں بھارت اور امریکہ کے درمیان نیوکلیائی تعاون معاہدے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ دونوں ملکوں کے باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے کے حامی ہیں۔ سیکیورٹی اشتراک کو مضبوط کرنے میں ہمیں چین کے چیلنجز کے پیشِ نظر ت...

آزاد کشمیر کی سیاست اور سمندر پار کشمیری

   آزادکشمیر کی سیاست اور سمندر پار کشمیری تحریر   خواجہ محمد عرفان آزاد کشمیر میں سیاسی ہلچل آج کل اپنے جوبن پر ہے۔کہیں جوڑ تو کہیں توڑ کا کھیل شروع ہوچکا جو انتخابات شروع ہونے تک جاری رہے گا۔کونکہ آزاد کشمیر کی سیاست میں نظریے اور کارکردگی کا اتنا عمل دخل نہیں جتنا شخصیت اور برادری ازم کا ہے۔۔۔اس سلسلے میں سب سے اہم موڑ امیدواروں کی شمولیت اور ٹکتوں کی تقسیم ہوتی ہے۔اور آذادکشمیر کی سیاست میں بیرون ملک رہنے والے کشمیریوں خصوصا یورپء ممالک میں رہنے والے جنوبی آزادکشمیر کے لوگوں کا بھی اہم کردار ہے۔برطانیہ بھر میں بسنے والے پاکستانیوں اور کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد جو تقریباً 16لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے، ان دنوں ان میں وطن عزیز کے سیاسی معاملات پر خاصی تشویش پائی جاتی ہے، پاکستان کے اندر سیاسی افراتفری ہو قدرتی طوفان آنے یا جو بھی حالات پیدا ہوں اس کے براہ راست اثرات بیرون ملک آباد پاکستانی اور کشمیری قوم پر ہوتے ہیں، پاکستان کی موجودہ صورتحال پر بھی ہر پاکستانی اور کشمیری متفکر ہے۔ یہاں برطانیہ میں کورونا وائرس کی پابندیوں کے باوجود پاکستان کی سیاسی جنتا اپنے اپنے لیڈر...

سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی

Image
تحریر خواجہ محمد عرفان سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی پاکستان کی سیاست کا میچ اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگلی سہ ماہی کا ٹوئنٹی ٹوئنٹی شروع ہو چکا ہے، نئی نئی ٹیمیں وجود میں آرہی ہیں، اُکھاڑ پچھاڑ کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ اپوزیشن اپنی صف بندیوں جبکہ حکومت احتساب کے تازہ دم دستوں کے لیے تیار ہے۔ اڑھائی برس قبل جولائی2018  میں انتخابات سے قبل ایک اہم اننگز کا آغاز کیا گیا۔ احتساب کی اس اننگز میں جناب عمران خان نے شاندار بولنگ کی۔ اپوزیشن کی اہم وکٹیں گرا دیں، جس جس نے چیلنج کیا اُسے پویلین میں بھیج دیا گیا، چوں چراں کرنے والی ہر آواز کا ناطقہ بند۔ قومی اسمبلی کی اولین دو قطاروں سے ناپسندیدہ چہرے غائب، یہاں تک کہ اگر میڈیا سے بھی اختلافی آوازیں آئیں تو خاموشی کا خود ساختہ بٹن آن ہو گیا۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، چور چور کی صدائیں، حزب اختلاف کی لوٹ مار کی کہانیاں زبان زد عام تھیں۔ اتنی خوش نصیب حکومت کہ اس کے تمام صفحے اور اس کی سب تحریریں ایک۔ نہ کوئی احتجاج، نہ کوئی للکار۔ ایک سال ہو گیا، آہستہ آہستہ انصاف حکومت کی حمایتی آوازوں کے پاس گذشتہ ایک سال میں کیا کارکردگی رہی جیسے سوالوں ...