آزاد کشمیر کی سیاست اور سمندر پار کشمیری

  آزادکشمیر کی سیاست اور سمندر پار کشمیری


تحریر خواجہ محمد عرفان

آزاد کشمیر میں سیاسی ہلچل آج کل اپنے جوبن پر ہے۔کہیں جوڑ تو کہیں توڑ کا کھیل شروع ہوچکا جو انتخابات شروع ہونے تک جاری رہے گا۔کونکہ آزاد کشمیر کی سیاست میں نظریے اور کارکردگی کا اتنا عمل دخل نہیں جتنا شخصیت اور برادری ازم کا ہے۔۔۔اس سلسلے میں سب سے اہم موڑ امیدواروں کی شمولیت اور ٹکتوں کی تقسیم ہوتی ہے۔اور آذادکشمیر کی سیاست میں بیرون ملک رہنے والے کشمیریوں خصوصا یورپء ممالک میں رہنے والے جنوبی آزادکشمیر کے لوگوں کا بھی اہم کردار ہے۔برطانیہ بھر میں بسنے والے پاکستانیوں اور کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد جو تقریباً 16لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے، ان دنوں ان میں وطن عزیز کے سیاسی معاملات پر خاصی تشویش پائی جاتی ہے، پاکستان کے اندر سیاسی افراتفری ہو قدرتی طوفان آنے یا جو بھی حالات پیدا ہوں اس کے براہ راست اثرات بیرون ملک آباد پاکستانی اور کشمیری قوم پر ہوتے ہیں، پاکستان کی موجودہ صورتحال پر بھی ہر پاکستانی اور کشمیری متفکر ہے۔ یہاں برطانیہ میں کورونا وائرس کی پابندیوں کے باوجود پاکستان کی سیاسی جنتا اپنے اپنے لیڈروں کے ساتھ اپنی وفا داریاں نبھانے اور اپنے مفادات کی خاطر سابق وزیراعظم پاکستان کے حوالے سے مخالفت اور حمایت میں مظاہرے ترتیب دینے اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی میں مصروف نظر آتی ہے۔ا دھر آزاد کشمیر کے آئندہ ہونے والے عام انتخابات کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے تمام جماعتوں کے امیدوار سیاسی میدان میں اپنے مخالف امیدوار کے ساتھ پنجہ آزمائی کرنے کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں ،برطانیہ کے سیاسی پنچھی بھی اپنے اپنے حلقے میں اڑان بھرنے کیلئے تیاریوں میں مصروف ہیں اس مہم کے اثرات بھی بولٹن سمیت دوسرے شہروں میں آباد کشمیریوں پر بتدریج مرتب ہورہے ہیں کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں کی شاخیں برطانیہ میں قائم ہیں بلکہ شاید یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ برطانیہ کی کشمیری کمیونٹی کی شبانہ روز کی کمائی سے آزاد کشمیر کے اندر بھی اکثر صورتوں میں میدان گرم رہتا ہے تاہم مثبت سوچ اور فکر کے حامل افراد بخوبی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ جو برطانیہ میں آباد ہیں ہمیں پہلے تو پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی دلدل میں الجھنے کی بجائے برطانیہ کے اندر اپنی سیاسی قوت یہاں کی قومی جماعتوں کے ساتھ صرف کرنی چاہئے ،جہاں ان کی نوجوان نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کے اندر اگر کوئی امیدوار حقیقی معنوں میں تبدیلی کیلئے برسرپیکار ہے تو ان کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہاں کی سیاسی قباعتوں کو یہاں نہ پھیلایا جائے ،آزاد کشمیر کے اندرنئی حلقہ بندیوں سے ضلع کوٹلی کو نئے حلقہ انتخاب میں شامل کیا گیا ہے جس سے کشمیری سیاست میں ایک نیا موڑ آیا ہے اس نئے حلقے سے ایک ٹاپ بیورو کریٹ چوہدری عبدالقیوم نے سیاسی معرکہ مارنے کا اعلان کیا ہے۔ آزاد کشمیر میں محکمہ مال اور بندوسبت کے قواعد و ضوابط میں لوگوں کو حقوق ملکیت دینے میں ان کے والد مرحوم چوہدری میرزمان کی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے اور یہی وہ وجہ ہے جس سے متاثر ہوکر انہوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ چوہدری عبدالقیوم سینئر بیوروکریٹ ہیں جو بہت سی حکومتوں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور شاید ان کی خداداد صلاحیتوں کے باعث ہی آزاد کشمیر کے بزرگ سیاستدان جنہیں سالار جمہوریت کے نام سے جانا جاتا ہے میری مراد سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے بانی رہنما سردار سکندر حیات خان سے ہے، ان جیسی خطے کی اہم شخصیت اور ایک بڑے سیاسی کھلاڑی نے کھل کر ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے یقینی طور پر ان کا انتخاب درست ہوگا کیونکہ سردار سکندر حیات خان سے آپ چاہے سیاسی اعتبار سے کتنا ہی اختلاف رکھیں لیکن خاص طور پر ضلع کوٹلی میں تعمیر و ترقی کے ہیرو مانے جاتے ہیں اور کوٹلی آج جن گوناگوں مسائل کا شکار ہے جس کے باعث سردار سکندر حیات خان کی دوررس نگاہوں نے چوہدری عبدالقیوم کی صورت میں ایک بہتر شخصیت کا ادراک کیا ہے اسی طرح آزاد کشمیر سے راجہ منظور کیانی کی ایک تحریر نظر سے گزری ہے جنہوں نے ان کی سول سروس کے ریکارڈ کی تعریف کی ہے گو اس حلقے میں ووٹوں کی تعداد جاٹ اور گوجر برادری کی برابر برابر ہے مگر دیگر برادریوں کے ووٹوں کی تعداد بھی ان دونوں برادریوں کے تقریباً برابر ہوگی اور سردار سکندر حیات نے ان تمام اعدادوشمار کو مدنظر رکھ کر ہی چوہدری عبدالقیوم کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے۔ صاحب تحریر نے متعدد دیگر امیدواروں کا ذکر خیر بھی کیا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ آزاد کشمیر کے دیگر حلقوں سے بھی بعض ریٹائرڈ بیورو کریٹ انتخابی میدان میں پنجہ آزمائی کیلئے ارادے رکھتے ہیں اور یہ رائے دی ہے کہ اس طرح اگر سابق بیورو کریٹوں      کی سیاسی      ایوانوں میں انٹری ہوگی تو سیاست کا رخ تبدیل ہوسکتا ہے۔ برطانیہ میں بھی متعدد کشمیری حلقوں میں ہی رائے زور پکڑ رہی ہے کہ آزاد کشمیر کے اندر اب روایتی سیاسی لیڈروں کے بجائے ریٹائرڈ بیورو کریٹس، اچھی شہرت کے حامل دیگر شعبوں سے بھی شخصیات کو آزمانے میں کوئی حرج نہیں شاید اس طرح آزاد کشمیر کے سیاسی ایوانوں میں بہتر لوگوں کی شکل میں نمائندگی سامنے آسکے۔

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے تاریخی معاہدے پر امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں دستخط کر دیے

جو بائیڈن کے دور میں امریکہ کے تعلقات کیسے ہوں گے؟؟؟