سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی

تحریر خواجہ محمد عرفان


سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی

پاکستان کی سیاست کا میچ اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگلی سہ ماہی کا ٹوئنٹی ٹوئنٹی شروع ہو چکا ہے، نئی نئی ٹیمیں وجود میں آرہی ہیں، اُکھاڑ پچھاڑ کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ اپوزیشن اپنی صف بندیوں جبکہ حکومت احتساب کے تازہ دم دستوں کے لیے تیار ہے۔

اڑھائی برس قبل جولائی2018  میں انتخابات سے قبل ایک اہم اننگز کا آغاز کیا گیا۔ احتساب کی اس اننگز میں جناب عمران خان نے شاندار بولنگ کی۔ اپوزیشن کی اہم وکٹیں گرا دیں، جس جس نے چیلنج کیا اُسے پویلین میں بھیج دیا گیا، چوں چراں کرنے والی ہر آواز کا ناطقہ بند۔ قومی اسمبلی کی اولین دو قطاروں سے ناپسندیدہ چہرے غائب، یہاں تک کہ اگر میڈیا سے بھی اختلافی آوازیں آئیں تو خاموشی کا خود ساختہ بٹن آن ہو گیا۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، چور چور کی صدائیں، حزب اختلاف کی لوٹ مار کی کہانیاں زبان زد عام تھیں۔ اتنی خوش نصیب حکومت کہ اس کے تمام صفحے اور اس کی سب تحریریں ایک۔ نہ کوئی احتجاج، نہ کوئی للکار۔

ایک سال ہو گیا، آہستہ آہستہ انصاف حکومت کی حمایتی آوازوں کے پاس گذشتہ ایک سال میں کیا کارکردگی رہی جیسے سوالوں کا جواب تراشنا مشکل ہو گیا۔ حکومت کی معاشی کارکردگی نے ہر سوال کے جواب میں حکومت کے لیے سوال کھڑے کرنے شروع کر دیے۔ احتساب پر بات ہونے لگی کہ 'چوروں' کے خلاف ثبوت کب تک منظر عام پر آئیں گے؟

رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات کی ویڈیو جس کی گواہی بےحد ایماندار وزیر شہریار آفریدی نے ٹی وی پر دی تھی آج تک عدالت میں پیش نہیں ہو سکی۔ اور تو اور ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے جج صاحب نے یہ تک فرما دیا کہ یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ احتساب کا عمل سیاسی انجینیئرنگ کے لیے استعمال ہوا۔

آل پارٹیز کانفرنس
،تصویر کا کیپشن

تں

اِدھر ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رہنے والے مولانا نے اکتوبر کی کال دی اُدھر نواز شریف کے ساتھ مبینہ بات چیت کا آغاز ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمان گذشتہ تین سے چار دہائیوں سے پاکستان کی سیاست کی اہم ترین شخصیات میں سے ہیں۔ وہی ہتھیار استعمال کرنا جانتے ہیں جن کو اُن کے ہاتھ دیا جاتا رہا۔

اگرچہ اس وقت مولانا ہیں تو سیاست کے اس کھیل کے بارہویں کھلاڑی مگر اس میچ کی جگہ اور وقت کا تعین بظاہر وہی کریں گے۔ سٹریٹ پاور کے حامل مولانا کو اخلاقی جواز ن لیگ اور پیپلز پارٹی فراہم کر سکتے ہیں۔

گزرتے وقت کے ساتھ مولانا فضل الرحمن اُن تمام کھیلوں سے آشنا ہو چکے ہیں جن میں امپائر کا کردار انتہائی اہم ہو تا ہے۔ لہٰذا اب گیند مولانا کے ہاتھ آتی ہے۔ کھیل بنانے والوں نے سوچا نہیں تھا کہ وہ کھلاڑی بھی کھیل میں کود پڑیں گے جو نکال باہر کر دیے گئے یا ہو گئے۔ مولانا اسلام آباد آنے کی تیاریوں میں ہیں اور کسی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں سوائے اس کے کہ عام انتخابات کا اعلان کیا جائے۔

مسلم لیگ نواز کی باگ ڈور شہباز شریف کے ہاتھ ہونے کے باوجود کھیل نواز شریف کے ہاتھ ہے۔ اس اننگز میں اُن کے ہم خیال شاید اُن کی ٹیم کے اہم رہنما تو نہیں البتہ تماشائی اور عوامی کھلاڑی اُن کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے کھلاڑی نو بال کرا رہے ہیں اور لندن میں بیٹھا کا کھلاڑی شاٹ تو نہیں مار رہا البتہ کریز پر کھڑا ضرور ہے۔

بلاول بھٹو
،تصویر کا کیپشن

تے

مولانا کے آزادی مارچ میں اگر نون لیگ کی قیادت شریک نہیں بھی ہوتی تو بھی نون لیگ کا ورکر شریک ہو سکتا ہے۔ ی بظاہر نواز شریف خود کسی قسم کی ڈیل میں دلچسپی نہیں رکھتے تاہم جوں جوں ایک قسم کی جلا وطنی طویل ہو رہی ہے اُن کے پتے تعداد میں زیادہ اور مخالفین کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نواز شریف لندن  میں بیٹھ کر بھی اہم میچ شروع کر چکے ہیں۔

اب آئیے پیپلز پارٹی کی جانب۔ بلاول بھٹو سندھ حکومت بچانا چاہتے ہیں مگر اخلاقی سیاست کا دامن بھی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ آصف زرداری اور فریال تالپور جیل میں ہیں اور مراد علی شاہ کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ مذہبی کارڈ اور دھرنا سیاست سے دور رہنا چاہتے ہیں لیکن عام انتخابات کا انعقاد بھی چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی عوام کے نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے لیکن عوام کے جذ بات کے مطابق چلنا بھی مشکل ہے۔

بلاول بھٹو اس دور میں کہ جب رہنماؤں کی اکثریت جیل میں ہے سیاسی خلا کو پورا کر سکتے ہیں لیکن اُن کے ہاتھ لگی چند بیڑیاں فیصلہ سازی میں آڑے آ رہی ہیں۔ انھیں فیصلہ کر نا ہو گا کہ عوامی جذبات کے مخالف کھڑا ہونا ہے اور پیپلز پارٹی کا سیاسی مستقبل بچا نا ہے یا وقتی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

اور آگے کا موسم کھیل کھیلنے والوں کے لیے بھی اہم اور کھیل بنانے والوں کے لیے بھی

اسی سلسلے میں مولانا کی تحریک زور پکڑ چکی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی،پاکستان مسلم لیگ نواز، جمعیتِ علماء اسلام اور دیگر سیاسی جماعتوں نے فضل الرحمان کی دعوت اور کوشش پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام پر ملک گیر تحریک شروع کی اور اس تحریک نے حکومت کے خلاف ملک کے مرکزی شہروں میں اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ تو کیا لیکن گلگت میں ہونے انتخابات میں پھر وہی ہوا جس کا اپوزیشن کو ڈر تھا حالانکہ وہاں نے پیپلزپارٹی نے بہت محنت کی تھی اور بظاہر ان کا پلڑا بھاری تھا۔اور بہت سی ایسے غیر معمولی اننگز کھیلی گئیں جن سے اپوزیشن کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔اس کے باوجود اپوزیشن کسی ڈیل پر راضی نہیں اور اپنی تحریک جاری رکھے ہوئے۔اس سلسلے میں فضل الرحمان مذہبی کارڈ، پیپلز پارٹی نظریہ اور مسلہ کشمیر،اور مسلم لیگ نواز کارکردگی کا کارڈ استعمال کر کے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کررہی۔اور اگلے ہفتے ہمارے شہر مظفرآباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپوزیشن اپنی قسمت کا سکہ آزمائے گی لیکن تحریک انصاف آزاد کشمیر میں بھی انتخابات میں جیت کا دعوی کررہی۔ سیاست کے بارہویں کھلاڑی کی تحریک اب کتنی کامیاب ہوتی ہے یہ آزاد کشمیر کے آنے والے انتخابات پر بھی کچھ حد تک منحصر ہے کیونکہ اگر اپوزیشن یہ میچ بھی ہار گئی تو یہ ٹائٹل جیتنا مشکل ہوگا اور اگلے شیڈولڈ انتخابات تک انتظار ہی کرنا پڑے گا۔ 

اگلے کچھ مہینے ملک کی مرکزی سیاست کےلیے بہت اہم ہیں۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

آزاد کشمیر کی سیاست اور سمندر پار کشمیری

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے تاریخی معاہدے پر امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں دستخط کر دیے

جو بائیڈن کے دور میں امریکہ کے تعلقات کیسے ہوں گے؟؟؟